• مئی 10, 2021

یہ رات رات میں امیر کرنے والے

گزشتہ روز ازراہ مذاق چند کمپنیز کا ذکر کیا اور کہا کہ ان پر اعتبار کرکے اپنے کروڑوں روپے برباد کروا لینے والی قوم بھی کہتی ہے کہ حکمران لوٹ کر کھا گئے، اس اسٹیٹس میں کچھ کمپنیز کے نام تھے کچھ کہ نہیں لیکن احباب میں سے جو ان میں سے کسی کے ساتھ منسلک تھے انہوں نے اپنی اپنی متعلقہ کمپنی کا دفاع کرنے کی کوششیں شروع کردیں کہ باقی سب فراڈ ہوسکتی لیکن ہمارے والی ایسی نہیں ہے.
یہ ایسے ہی ہے جیسے گلیوں کے کونوں پر کھڑے لونڈے لپاڑے دوستوں کو بتا رہے ہوتے ہیں کہ "میرے والی ایسی نہیں ہے وہ سب سے الگ ہے” حالانکہ اس کے والی بھی تب تک اسکی ہوتی جب تک وہ اس سے فائدہ سمیٹ رہی ہوتی.
ایک اور مثال ہمارے معاشرے زبان ذد عام ہے کہ "ہر پیر فقیر ہی اصلی اور پہنچا ہوا ہوتا ہے لیکن تب تک جب تک وہ پکڑا نہیں جاتا اور جب وہ پکڑا جاتا ہے تو پتا چلتا کہ ذلالت اور بغاوت میں کس حد تک پہنچا ہوا تھا، کچھ ایسا ہی حال ہمارے معاشرے میں موجود ان سبزباغ دکھاتی کمپنیز کا ہے.یہ بھی بالکل پاک صاف ہوتی ہیں اور ان کا کاروبار بھی شرعاً اور قانوناً عین حق پر ہوتا ہے مگر جب عوام الناس کا پیسا کھاکر رفو چکر ہوتی ہیں تو پیچھے لکیریں پیٹی جاتی ہیں.
مثل مشہور ہے کہ "جب تک لالچی زندہ ہیں فراڈیے بھوکے نہیں مرتے” اسی فارمولے پر چلتے ہوئے یہ کمپنیاں بھی لوگوں کو "راتوں رات امیر” ہونے کا لالچ دے کر ان سے انویسٹ کرواتی ہیں اور پھر چین سسٹم پر لگادیتی ہیں کہ اپنے جیسے مزید پنچھی لاتے جاؤ اور فائدہ اٹھاتے جاؤ بندہ مزید اور مزید کے لالچ میں جکڑا جاتا ہے اور اپنے منافع کو بھی انویسٹ کرتا جاتا ہے اور بالآخر ایک رات ایسی آتی ہے کہ صبح کمپنی فرار ہوتی ہے.
طریقہ واردات بڑا پرانا اور سادہ سا ہے ایک کمپنی رجسٹرڈ کرواؤ جو آٹھ دس ہزار میں ہوجاتی، دو تین بڑے مسالک کے علماء کو انفرادی مسائل و معاملات میں الجھا کر فتویٰ لو اور اس فتویٰ کو پرنٹ کروا کر فریم کروا کر رکھ لو اب جس مسلک کا بندہ آئے ایک تو کمپنی کی رجسٹریشن کا لیٹر دکھاؤ، اس کے مسلک کے عالم کا فتویٰ دکھاؤ، سبز باغ دکھاؤ اور گھر، گاڑی، عیش و عشرت کے خواب جاگتی آنکھوں سے دکھاؤ تو مرغا پھنسا کھڑا ہے.
تازی ترین مثالوں میں لاثانی گروپ اور سرگودھا کے ایک ہی گاؤں سے موٹرسائیکل سکیم کے نام پر لوگوں سے کروڑوں لے جانے والی کمپنیاں ہیں. اس سے ملتی جلتی بیسیوں ہیں جن کے ساتھ ہمارے دوست احباب منسلک ہیں اور سبھی سمجھتے کہ ہمارے والی جدا ہے حالانکہ شکاری پرانے ہوتے ہیں جال بدل بدل کر لاتے رہتے اور بھولے پنچھی شارٹ کٹ کے چکر میں ان کے چکروں پھنستے چلے جاتے.
یہ کام گورنمنٹ اور اداروں کا ہے کہ علماء ، قانونی اور اقتصادی ماہرین پر مشتمل ایک بورڈ یا کمیٹی تشکیل دی جائے اور بھولی عوام کو ان ایسوں سے بچا سکے اور عوام الناس بھی تھوڑا خیال کرے، شارٹ کٹ اور راتوں رات امیر نہیں ہوا جاتا. ہر طرح کے فتوے اور قانونی سرٹیفیکیٹس سب کچھ ہوتا ہے لیکن اپنا دل اور ضمیر بھی کوئی چیز ہوتا، ذاتی تحقیق بھی کوئی حیثیت رکھتی ہے کسی بھی سبز باغ دکھانے والوں کو اس کسوٹی پر بھی پرکھ لیا کریں.

محمد عبداللہ

Muhammad Abdullah

Read Previous

دو ہزار بیس کا جائزہ

Read Next

دلچسپ قصہ شراٹا بس میں ایک سفر کا

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے