• مئی 10, 2021

ٹویٹر ٹرینڈز سے کیا ہوتا ہے اور تحریکوں میں ٹرینڈز کس قدر اہمیت کے حامل ہوتے ہیں

"ٹویٹر ٹرینڈز سے کیا ہوتا ہے”
سب سے پہلے تو شکریہ اور حوصلہ افزائی  ان دوستوں کا جو اس ایکٹیویٹی میں شامل ہوتے.
اور جو معترض حضرات ہیں ہمارے دوست اور بھائی ہی ہیں. ذرا بتائیے گا پاکستان کے کتنے لوگوں کو ڈاکٹر قاسم فکتو کا پتا ہے کہ وہ کون ہیں کیا ہیں؟ اس ٹرینڈ کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ آپ کے لوگوں کو آپ کے ہیروز کا پتا چلتا ہے. جب کوئی ٹرینڈ ٹاپ فائیو میں آتا ہے تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے. دوسری بات کہ ہمارے ٹرینڈز سے ڈاکٹر قاسم فکتو کو رہائی نہیں ملے گی لیکن کم از کم کسی ڈسکشن، کسی فورم پر بحث، انڈیا کو رگیدنے کا حصہ تو بنے گی کاوش، تیسری بات کہ ہم سے تو اہل کشمیر کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا آپ چھوڑ سکتے ہیں تو چھوڑ دیں، ہمارے بس میں جو ہے ہم وہ کرتے رہیں گے جہاں تک اللہ نے موقع دیا تھا عملی کام بھی کرتے رہے اب اگر استطاعت کی بورڈ تک کی ہے تو اس پر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھیں گے اور نہ ہی اڑتے تیروں کو چھیڑیں گے البتہ اپنا نظریاتی کام اور ایکٹیویٹیز جاری رکھیں گے سوشل میڈیا پر بھی. چوتھی بات کہ عمل خواہ چونچ میں پانی لاکر آگ بجھانے کا ہو یا فقط اپنے الفاظ سے کسی غمزدہ کے زخموں پر مرحم رکھنے کا ہمیشہ آپ کی سائڈ دیکھی جاتی ہے کہ آپ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں (خواہ الفاظ سے ہی سہی) یا چپ رہ کر صف اغیار کو تقویت دیتے ہیں. پانچویں بات کل کو اللہ کے سامنے کم از کم یہ تو کہہ سکیں گے کہ اللہ ہم آواز تو اٹھاتے رہے تھے جس کی تو نے توفیق دی تھی. چھٹی بات کہ حکومت کیا کرتی ہے، عالمی ادارے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں، ہماری آواز کہاں تک موثر ثابت ہوتی ہے یا مکمل بےکار جاتی ہے یہ ہزار درجے بہتر ہے کسی ہوتے ہوئے کام پر اعتراض اٹھا کر اس کو روک دینے سے. چھٹی بات کہ اگر سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے سے کچھ نہیں ہوتا تو بھائی تسی ایتھے گنڈیریاں ویچدے جاؤ کم کرو جاکے. باقی جہاں تک بات ہے آپ لوگوں کے اعلیٰ ایمان کی جو ڈائریکٹ میدان مقتل سے، کفر کی چوکی پر پھٹنے سے ذرا چند سیکنڈز پہلے فیسبک پر پوسٹ ڈال رہے ہوتے ہیں کہ آپ لوگوں کے ٹرینڈز سے کیا ہوتا ہے تو بھائی آپ سے مقابلہ نہیں ہوسکتا ہمارا ایمان بہت کمزور ہے ہم جو کرسکتے ہیں وہ کر رہے ہیں میرا اللہ ان شاءاللہ آگے بڑھنے کی بھی توفیق دے گا.

  1. دنیا بھر میں ٹرینڈنگ کو اہمیت حاصل ہے، پالیسی ساز ادارے،قانون ساز اسمبلیاں، بین القوامی ذرائع ابلاغ، بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں آپ کے ٹرینڈز پینل پر نظر رکھتی ہیں. عرب اسپرنگ کوئی بہت پرانا ایشو نہیں ہے وہ ان ٹرینڈز کی ہی گیم تھی جس نے برسوں سسے قائم عرب بادشاہوں کو تحتوں سے اٹھاکر پھینک دیا تھا.i

Muhammad Abdullah

Read Previous

ولادت مصطفیٰ اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم

Read Next

کرونا ٹیسٹ کے حوالے سے ہمارے ساتھ پیش آنے آنے والا عجیب واقعہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے