• اپریل 12, 2021

دلچسپ قصہ شراٹا بس میں ایک سفر کا

آدھی رات کا وقت ہے سارے سوئے ہیں، اچانک سے آپ کے پیٹ میں درد اٹھتا ہے آپ سوچتے ہیں کہ درد ختم ہوجائے گا لیکن درد بڑھتا چلا جاتا ہے. اس وقت کسی اسپتال میں جانا بھی ممکن نہیں ہے تو اس شدت بھری تکلیف کا ایک ہی حل ہے.
آپ شادی یا دعوت پر جاتے ہیں اور اپنے پیٹ کی کیپسٹی سے بڑھ کر کھانا کھاتے ہیں اور وہ ہضم نہیں ہورہا اور آپ کا معدہ خراب ہوجاتا ہے اور آپ کو بار بار واش روم کی سیر کرنی پڑ رہی ہے تو اس کا بھی ایک ہی حل ہے اس کے بعد آپ جتنا مرضی کھانا کھائیں اور وہ حل ہے بابے امین کی پھکی. بابا امین پچھلے تیس سال سے لوگوں کی خدمت کر رہا ہے لاری اڈہ کے ساتھ اس کا شفا خانہ ہے لیکن یہ پھکی آپ کی خدمت میں پیش ہے بس بیس روپے میں، بیس روپے بیس روپے اور بیس روپے، آیا بہن جی.
اللہ اس مدنی سواری کو خیریت سے منزل مقصود پر پہنچائے.آپ کاروبار کے مسئلے پر پریشان ہیں، فیکٹری ٹھیک سے نہیں چل رہی، پروڈکشن میں ایشو آرہا ہے، دوکان سیل ٹھیک نہیں ہورہی، کاروبار میں برکت اٹھ گئی ہے، گھر میں مسئلے بن گئے ہیں، بیوی اور بچے آپ سے لڑائی کرتے ہیں تو پریشان نہیں ہونا اس کا ایک ہی حل ہے اور وہ لوح قرانی، ان لوح قرانی کی قیمت تو کوئی نہیں چکا سکتا مگر آپ کی خدمت میں اس کو ہدیے کہ ساتھ پیش کی جا رہا ہے اور ہدیہ ہے صرف بیس روپے بیس روپے اور صرف بیس روپے آیا بہن جی.
آپ بدمزہ کھانوں سے تنگ ہیں تو پیش خدمت ہیں اوٹھیاں پمپ کی مشہور ٹکیاں، آج سے پہلے آپ نے اتنی مزیدار ٹکیاں نہیں کھائی ہونگی. کئی سال سے اوٹھیاں پمپ کی ٹکیاں نان کے ساتھ کھائی جا رہی ہیں آپ بھی کھائیے. ایک بار کھائیں گے بار بار آئیں گے.
چکوال کی پہلوان ریوڑیاں، مرغ دال چنا، وزیرآباد کی چاقو چھریاں، ٹھنڈے پانی کی بوتلیں اور دیگر کئی مشروبات، مصنوعات، ذائقوں اور نت نئے تجربات سے آشنا ہونا چاہتے ہیں تو سواری کیجیئے ان "شراٹا بسوں” کی.
صرف مصنوعات اور مشروبات وغیرہ پر بس نہیں بلکہ ہر منٹ بعد اتنا تیز اور لمبا ہارن "پاں” بھی آپ کی صدیوں سے بند سماعتوں کو کھولنے کا باعث بنے گا اور ہاں اگر آپ کو کلمے اور دعائیں یاد نہیں ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں آپ ایسی بسوں میں ڈرائیور کے برابر یا پیچھے بیٹھ جائیں پھر دیکھیے گا چھ کے چھ کلمے مع ایمان کی صفتیں آپ کی زبان پر چشم ذدن میں جاری ہوجائیں گی.
اور اگر آپ بس میں تھوڑا سا پیچھے بیٹھے ہیں تو پھر تو ایک ٹکٹ میں کئی مزوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ہر دو منٹ بعد آپ اپنی سیٹ سے اچھلیں گے جیسے اچانک سے سیٹ میں سے اسپرنگ نکل آئے ہوں اور کئی دفعہ تو بس کے چھت سے سر کو ٹکرا کر ہی واپس اپنی سیٹ پر لوٹیں گے. بس کے ہر موڑ کاٹنے پر یہ غالب امکان ہوتا ہے کہ آپ کسی اور کی گود یا کندھوں سے برآمد ہورہے ہوں اور وہ آپ پر غصہ ہورہا ہو اور اگلے ہی لمحے مخالف سمت میں موڑ کاٹنے پر غصے ہونے کا موقع آپ کو میسر آجائے گا.
سب سے بڑھ کر آپ کے سر کے عین اوپر فٹ ہوا سپیکر جس سے ایسے ایسے ریکارڈز آپ کو سننے کو ملتے ہیں کہ الامان الحفیظ. البتہ بڑی ترتیب ہوتی ہے. آپ نے صبح فجر کے قریب سفر کا آغاز کیا ہے تو سب سے پہلے تلاوت ہوگی، پھر نعت رسول مقبول، اس کے بعد محفل سماع ہوگی، رنگ بھرنگی قوالیوں سے آپ کے ذوق کی تشنگی کو بجھایا جائے گا اس کے بعد رات دو بجے تک پھر نان اسٹاپ گانے اور موویز چلیں گی دو بجے کے بعد دوبارہ قوالیاں اور پھر فجر کے قریب تلاوت….
تحریر کی طوالت کے پیش نظر ان ہی تجربات پر اکتفا کرتے ہیں آپ بھی سفر کیجیئے اور انجوائے کیجیئے..
محمد عبداللہ
نوٹ: تازہ ترین تجربات پچھلے دنوں سیالکوٹ سے گوجرانوالہ تک کے سفر کے دوران ہوئے جو ہم نے زیرنظر تصویر میں موجود "راجہ بس” میں کیا.

Muhammad Abdullah

Read Previous

یہ رات رات میں امیر کرنے والے

Read Next

عالمی یوم خواتین اور ہمارا ست رنگی معاشرہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے