• جون 22, 2021

وبا کی خطرناک صورتحال، بھارت کے لیے دعا یا بدعائیں

"وبا کی خطرناک صورتحال، بھارت کے لیے دعائیں یا بدعائیں، اسوہ حسنہ کیا ہے؟؟؟؟
زندگی اللہ کا عطا کیا ہوا خوبصورت تحفہ ہے، وبا کے دنوں میں خصوصی احتیاط کریں دنیا کے لیے آپ فقط گنتی کا ایک عدد ہونگے مگر اہل و عیال کے لیے آپ پوری دنیا ہیں. اپنے ہمسائیوں سے سبق سیکھیں. انہوں نے جہالت کا مظاہرہ کیا اور آج آکسیجن کی بوند بوند کو ترس کر مر رہے ہیں اور شمشان گھاٹوں پر جلانے کی جگہ تک نہیں بچی.
یہاں دو رویوں کی بھی اصلاح کی ضرورت ہے جو دونوں انتہاؤں پر پہنچے ہوئے ہیں. ایک طبقہ وہ ہے جن کے نزدیک انسان فقط بھارت کے رہنے والے لوگ ہیں اور وہ سب کچھ بھول کر فقط بھارت کے لیے دعاؤں کو سلسلہ دراز کیے ہوئے ہیں (حالانکہ عام دنوں میں ان میں سے اکثریت اللہ سے دعاؤں سے انکاری ہوتی) اور ان کے نزدیک کافروں کے لیے بدعا کرنے والے لوگ بدترین لوگ ہیں.
دوسرا طبقہ بھی اپنی انتہا پر پہنچا ہوا ان کے نزدیک بھارت پر کورونا کی بدترین صورت کا مسلط ہونا مکافات عمل ( جو یقیناً ہوسکتا ہے) ہے اور یہ طبقہ اس عذاب کے بڑھنے کی ہی دعائیں کیے جا رہا ہے. ان کے نزدیک بھارت میں کورونا کی موجودہ لہر کے رکنے کی دعا کرنے والے لوگ بدترین لوگ ہیں.
میں سمجھتا ہوں کہ دونوں طبقوں کو اپنی اصلاح کرنی چاہیے بھارت نے جو ظلم و ستم کشمیر اور خود بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھا ہے یہ کورونا کی بدترین صورتحال یقیناً اس کا مکافات ہوسکتی ہے.لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ کورونا فقط ہندوؤں کو ہی مار رہا ہے اور مسلمان صاف بچ رہے ہیں. بھارت میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان بستے ہیں جن کا کورونا کی اس بدترین صورتحال سے بچنا ناگزیر ہوجائے گا.
دوسری بات بھارت کوئی زیادہ دور نہیں ہے آپ کی لمبی سرحدی پٹی اس سے ملتی ہے کشمیر میں بھارتیوں کا آنا جانا ہے. بھارت سے کئی چیزوں کی تجارت آپ کی طرف ہوتی ہے کچھ بلیک میں کچھ وائٹ میں تو وہی لہر آپ کی طرف سے سفر کرے تو کیا کرلیں گے ہمیں تو ہمارے ہاں موجود کورونا کی لہر کی سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کرنا ہے مارکیٹیں بند کرنی ہیں یا نہیں، تعلیمی اداروں کا کیا کرنا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ کا کیا کرنا ہے. انتظامی ادارے بوکھلائے پڑے ہیں لمحہ با لمحہ صورتحال اور فیصلے بدلے جا رہے ہیں.
ایسے میں اگر اپنے پیارے نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر نظر دوڑائیں تو ہمیں آپ کا اسوہ ملتا ہے کہ جب مکہ میں شدید قحط پڑا تو ابوسفیان (اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) مدینہ آئے اور کہا کہ آپ تو صلہ رحمی کی تلقین کرتے ہیں تو ہمارے لیے بدعا نہ کریں بلکہ دعا کریں اور احادیث میں یہ ذکر ملتا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی تو بارش ہوئی جس کی وجہ سے مکہ سے قحط ختم ہوا.آج بھارت میں مسلمانوں سے بھی دعاؤں اور عبادتوں کی درخواست کی جا رہی ہے.
کوشش کیا کریں کہ اپنے موقف میں میانہ روی رکھا کریں ہاں جب جنگ و جدل ہو تو پھر لچک کا آنا بزدلی اور بےحمیتی ہوسکتا ہے. تیسری بات پاکستان میں بھی کورونا کی صورتحال شدید سے شدید تر ہوتی جا رہی ہے. خدارا اپنی اور اور اپنے پیاروں کی زندگیوں کو داؤ پر نہ لگائیں. اس عید پر نئے کپڑے و جوتے نہ پہن سکیں گے تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی. احتیاط کریں جتنی ہوسکتی ہے ایسا نہ ہوکے آپ اس موذی بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزوں اور عبادت سے بھی جائیں (جو راقم کے ساتھ ہوچکا)
وما توفیقی الا باللہ..
محمد عبداللہ

Muhammad Abdullah

Read Previous

"رمضان المبارک کے حوالے سے کچھ اہم تجاویز”

Read Next

یادیں یوم الفرقان کی، اسباق نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتال سے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے