• جنوری 22, 2021

کیا معاشرے میں امن لانے کے لیے ہم یہ کام کر سکتے ہیں

ساری لڑائیاں، سارے جھگڑے اور ساری ناراضگیاں آپ کی چلتی سانسوں تک ہیں. آج پتا چل جائے کہ آپ زندگی کی آخری سانسوں پر ہیں، آپ کو لاحق کوئی جان لیوا بیماری اپنی آخری اسٹیجز پر ہے تو آپ کے سارے ناراض رشتہ دار، دوست احباب بھاگے چلے آئیں گے، ساری لڑائیاں ہوا ہوجائیں گی، ساری ناراضگیاں بھول جائیں گی اور آپ سب سے مقدم ہوجائیں گے.
کبھی میت کے اردگرد بین کرتے اور اونچی آواز سے روتے ہوئے افراد دیکھے ہیں ان میں اکثر وہ ہوتے جو میت کو خون کے آنسو رلاتے رہتے ہیں لیکن مرتے ہی سارے جھگڑے ختم اور میت کے لیے آنسو جاری ہوجاتے ہیں.
حقیقی مسئلہ جانتے ہیں کیا ہے؟ عرف عام ہے کہ کسی کے چلے جانے کے بعد اس کی قدر کا احساس ہوتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے کسی کے چلے جانے کے بعد اس کی قدر کا نہیں پچھتاووں کا آغاز ہوتا ہے.
کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ جیسے جذبات اور احساسات کسی کے مرنے کے بعد ہمارے دل میں اس کے لیے پیدا ہوجاتے ہیں وہ اس کے زندہ ہوتے ہوئے ہمارے دلوں میں پیدا ہوجائیں. کسی کے بستر مرگ پر پڑے ہوئے جو معافیاں اس سے مانگی جاتی ہیں وہ اس کی زندگی میں ہی میں اپنی غلطیوں پر اس سے معافی مانگ لی جائے.
سوچیے ذرا اگر ایسا ہوجائے تو معاشرے اور ہماری زندگیوں میں کتنا سکون آسکتا ہے؟

محمد عبداللہ

Muhammad Abdullah

Read Previous

کیا ہم عدم برداشت سے بچ سکتے ہیں؟

Read Next

دو ہزار بیس کا جائزہ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے