• اپریل 12, 2021

کچھ ایسی یادیں جن میں آپ کو بھی اپنا بچپن نظر آئے گا

"کچھ ایسی یادیں جو اب نظر آنا مشکل”
"گورنمنٹ پرائمری اسکول کوپرہ خورد” ہماری ابتدائی مادر علمی جہاں سے ہم نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی، تعلیم کیا تھی لکھنا اور پڑھنا سیکھا تھا. صبح سویرے کپڑے کے بنے ہوئے "بستے” میں کتابیں، قلم دوات اور تحتی ٹھونس کر اسکول لے جاتے تھے. کاپیوں اور بال پوائنٹس کا تو تصور تک نہیں ہوتا تھا البتہ گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک رجسٹر پر ہوم ورک کرنا ہونا تھا.
صبح سویرے اسکول جاکر اسمبلی میں اوٹ پٹانگ قسم کی حرکتیں کی جاتیں. تلاوت، نعت، دعا اور قومی ترانے سے صبح کا آغاز ہوا کرتا تھا (کتنے بابرکت دن تھے اب تو عرصہ گزر جاتا تلاوت و نعت اور دعا کیے ہوئے) البتہ ایک بات جو اس وقت بھی نوٹ کی اور آج بھی اکثر ہوتا ہے کہ جیسے ہی ہم سب طلباء باآواز بلند قومی ترانہ پڑھتے تو ساتھ سڑک پر چلنے والے سبھی لوگ چاہے کوئی کتنی ہی جلدی میں کیوں نہ ہوتا وہ وہیں رک جایا کرتا تھا (اب تو قومی ترانہ چھوڑ کچھ بھی ہوجائے کوئی نہیں رکتا).
سردیاں ہوتیں تو دھوپ میں ٹاٹ بچھاکر کلاس جمالی جاتی اور گرمیاں ہوتیں تو کسی پیڑ کی چھاؤں تلے ماسٹر صاحب کی کرسی کے ارد گرد حلقہ جم جایا کریا کرتا تھا. کیونکہ دو کمرے تھے اسکول میں ایک میں دفتری سامان تھا اور دوسرے میں ٹوٹا پھوٹا فرنیچر ہوا کرتا تھا جس پر ہمیں کبھی بھی بیٹھنے کی سعادت نہ ملی تھی. قابل استعمال فرنیچر کے نام پر اساتذہ کے لیے موجود چار پانچ کرسیاں تھیں. اگر کبھی بارش ہوجایا کرتی تو سارے اسکول کو چھٹی ہوجایا جرتی تھی لہذا بارش کی دعائیں کثرت سے مانگی جاتیں تھیں. (لیکن طلباء کی دعائیں قبول ہوتی تو قبرستان اساتذہ کی قبروں سے بھرے پڑے ہوتے).
سبھی اساتذہ کو "سرجی” یا "ماسٹر جی” کہا جاتا تھا. ماسٹر جی نام تھا رعب اور دبدبے کا. کسی بھی ماسٹر کے اسکول میں آنے پر چپ کی لہر سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا کرتی تھی. کسی کی مجال نہیں تھی کہ کوئی ماسٹر جی کے سامنے آنکھیں اٹھا سکتا. ویسے تو اردو لکھنا اور پڑھنا ہی سکھایا گیا تھا البتہ دیگر کتابوں مثلاً ریاضی، سائنس وغیرہ میں بھی طاق ہوا کرتے تھے. دو قطاروں میں آمنے سامنے کھڑے ہوکر "اک دونی دونی تے دو دونی چار” کرتے ہوئے ریاضی کے پہاڑے یاد کیے جاتے تھے. انگریزی کے نام البتہ چھوٹی بڑی اے بی سی ہی آیا کرتی تھی اس سے زیادہ کا تکلف نہیں کیا جاتا تھا.
تختیاں اسکول میں بیٹھ کر بھی لکھی جاتی تھیں اور ان کو دھونے کے لیے نل یا کوئی ٹونٹی نہیں بلکہ اسکول میں ایک "چھپڑی” جوہڑ تھا جہاں پانی جمع رہتا تھا وہیں پر تختیاں دھوکر "گاچی” لگا کر سکھائی جاتی تھیں وہیں تختیوں کو ٹکرانے کا بھی مقابلہ ہوجایا کرتا تھا جس کے نتیجے میں تختی تو ٹوٹا ہی کرتی تھی اور پھر گھر جاکر کوئی چھڑی بھی ٹوٹا کرتی جس کے بعد ہی نئی تحتی میسر آتی تھی.
اسکول کی تصویر سامنے آئی تو ساری یادیں ذہن میں دوڑی چلی آئیں. آج ان میں سے کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملتا. سجے سجائے اسکول اور اساتذہ تو موجود مگر احترام و عقیدت کا رشتہ ندارد… پڑھائی اور اسلیبس تو شاندار مگر اخلاق اور علم سے عاری…… بیگز اور الماریاں کتابوں اور کاپیوں سے بھرے ہوئے مگر قلوب و اذہان خالی (الا ماشاءاللہ)

محمد عبداللہ

Muhammad Abdullah

Read Previous

کچھ قصے ماضی کے، کچھ باتیں حال کی

Read Next

"رمضان المبارک کے حوالے سے کچھ اہم تجاویز”

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے