• جون 22, 2021

کچھ قصے ماضی کے، کچھ باتیں حال کی

"کچھ قصے ماضی کے، کچھ باتیں حال کی”
نظریہ وہ واحد چیز ہے جو افراد، اکائیوں، گروہوں کو ایک کرکے ایک قوم بناتا ہے، اس کے برعکس مفادات جبکہ گروہی، علاقائی اور لسانی حقوق کے نام پر شروع کی گئی تحاریک تقسیم در تقسیم کرتی ہیں. انہی مفاداتی تحاریک کی بنیاد پر قوم قوم نہیں رہتی بلکہ ہجوم بن جاتی ہے اور پھر ذرا سی چوٹ لگنے پر جس کے جدھر سینگ سماتے ہیں وہ اس طرف نکل کھڑا ہوتا ہے.
مندرجہ بالا بات کی حقیقت وطن عزیز پاکستان کے قیام اور مابعد کی صورتحال کے مطالعہ سے مسلمہ ہوجاتی ہے. وطن عزیز پاکستان کا قیام دنیا کا معجزہ تھا جو فقط نظریہ پر مجتمع مختلف رنگ و نسل، مختلف زبان و علاقے کے افراد کے ہاتھوں اللہ کی ذات نے دنیا کے نقشے پر ابھارا تھا اور قیام کے فقط چوبیس سال بعد ہی عین چڑھتی جوانی میں دولخت ہوجانے کا سانحہ بھی نظریہ سے دوری اور لسانی و علاقائی مفادات کو سینے سے لگانے کا نتیجہ تھا.
ڈاکٹر صفدر محمود اپنی کتاب میں رقمطراز ہوتے ہیں کہ "مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے مختلف رنگ، نسل، زبان، علاقہ، رسم و رواج، تہذیب و ثقافت کے درمیان فقط ایک قدر مشترک تھی جوکہ نظریہ پاکستان لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ تھی اور جب مفادات اور حقوق کی جنگ نے زور پکڑا تو نظریہ پس پشت چلا گیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن چکا تھا”.
آج وہ دن ہے جس دن برصغیر پاک و ہند کے کونوں کھدروں سے مختلف اکائیوں، گروہوں اور فرقوں میں بٹے ہوئے مسلمان لاہور میں جمع ہوئے تھے اور نظریہ پاکستان لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر ایک قوم بنے تھے جس کی بنیاد پر اللہ نے پاکستان جیسا تحفہ عنایت کیا تھا. دن آج بھی وہی ہے مارچ کی بھی تئیس ہے، لاہور کا منٹو پارک اقبال پارک میں بدل چکا ہے لیکن آج شیر بنگال کا کوئی جانشین لاہور نہیں آیا، قائد کی تصویر کرنسی نوٹوں اور سرکاری دفاتر میں صاحب لوگوں کی پشت پر تو ٹنگی ہے، سیالکوٹ کے بطل حریت اصغر سودائی کا دیا گیا نعرہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ پارلیمنٹ کی عمارت پر کندہ ہے لیکن اگر نہیں ہے تو وہ نظریہ اور لا الہ الا اللہ کی ترجیح نہیں ہے.
آج بلوچستان، سندھ، کےپی کے، پنجاب اور آزاد کشمیر کونسا علاقہ ہے جو نظریہ کی بنیاد پر کٹ مرنے والوں کی بجائے مفاداتی ٹولوں اور لسانی و علاقائی حقوق کے نام پر جنم لینے والے قومیت پسندوں کا گڑھ نہیں بن چکا اور کشمیر کی تو بات ہی چھوڑیں کہ جس کو بانی پاکستان محمد علی جناح شہ رگ پاکستان کہہ کر گئے آج ان کے بیٹے اس کشمیر کو "مابین” مسئلہ قرار دے چکے ہیں.
قومیں سانحات سے سبق سیکھتی ہیں جبکہ ہمارے یہاں سالہا سال سے حکومت کرنے والے ہی ہمیں مشرقی پاکستان کا سانحہ دہرا دینے کی دھمکیاں بار بار دے رہے ہیں. جس مسلم لیگ نے پاکستان بنایا تھا اسی مسلم لیگ کی بگڑی شکل آج دشمن کی ایما پر حالات میں بگاڑ کی وجہ بن رہی ہے.
آج کا دن فقط یہی پیغام دیتا ہے کہ اگر دنیا میں زندہ قوموں کی طرح جینا ہے، وطن عزیز کو عظیم تر بنانا ہے تو وہ جذبے وہ ولولے اور دلوں میں لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے وہ لگن پیدا کرنا ہوگی جو 1940 میں آج کے منٹو پارک لاہور میں جمع ہونے والے ان عظیم انسانوں میں تھی.
پاکستان زندہ باد

Muhammad Abdullah

Read Previous

عالمی یوم خواتین اور ہمارا ست رنگی معاشرہ

Read Next

کچھ ایسی یادیں جن میں آپ کو بھی اپنا بچپن نظر آئے گا

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے