• جون 22, 2021

یادیں یوم الفرقان کی، اسباق نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتال سے

"کچھ یادیں یوم الفرقان کی، کچھ اسباق نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتال سے”
صبح سحری کے وقت گھر میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں پر تبادلہ خیال ہورہا تھا تو اس واقعہ پر جسم ایک دفعہ تو کانپ اٹھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لاتے اور پوچھتے کہ کھانے کو کچھ ہے جواب ملتا نہیں تو فرماتے کہ چلو آج پھر میرا روزہ ہے. اماں عائشہ سے مروی حدیث ہے کہ فرمایا دو ماہ میں تین چاند طلوع ہوجاتے اور گھر میں چولہا نہ جلتا تھا.
ایسا بھی نہیں تھا صحابہ کرام بڑے مالدار تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ نہیں تھا. صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کی کیفیت بھی یہ ہوتی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ کتان کے دورنگے ہوئے کپڑے پہنے اورایک ناک سے ناک صاف کرکے کہا وا ہ واہ ، ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) آج تم کتان سے ناک صاف کرتے ہو ، حالانکہ کل منبر نبوی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے درمیان غش کھا کر گرتے تھے اور گذرنے والے تمہاری گردن پر پیر رکھ کر کہتے تھے کہ ابوہریرہ کو جنون لاحق ہوگیا ہے ، حالانکہ تمہاری یہ حالت صرف بھوک کی وجہ سے ہوتی تھی.
باقی صحابہ کرام کی کیفیت بھی ایسی ہی ہوتی تھی کہ معیشت و اکانومی کے نام پر انڈسٹریز، اوور سیز کے ذرائع آمدن ، دفاع کے نام پر ایٹمی طاقت اور ہر طرح کی نعمت سے نہیں نوازے گئے تھے لیکن جب زمانے کے ستائے ہوؤں کو یہ آیت مبارکہ ملی کہ "أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ ” تم پر ظلم ہوتا رہا تمہیں تمہاری زمینوں سے بےدخل کیا گیا، ہجرتوں کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، مہاجر بن کر بھی آرام سے نہ رہنے دیا گیا بلکہ بار بار جنگ تمہارے اوپر مسلط کی تو اب تمہارے لیے بھی اذن جہاد و قتال ہے.نکلو اور اللہ کے راستے میں جہاد کرو.
تو چشم فلک نے دیکھا کہ کسی بھی قسم کی دفاعی ٹیکنالوجی اور اسلحہ سے خالی وہ دنیا کی پاکباز ہستیاں اس اذن جہاد اور مدینہ کے دفاع کی خاطر جو میسر تھا اس کے ساتھ میدان قتال میں کھڑی تھیں اور اللہ کے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کے ساتھ میدان مقتل میں اللہ کے سامنے سر سجدے میں گرائے ہوئے تھے ’’ اے میرے ربّ! تُو اچھی طرح واقف ہے۔ اگر آج یہ مُٹھی بھر جماعت بھی ختم ہو گئی، تو قیامت تک دنیا میں کوئی تیرا نام لیوا نہ رہے گا۔‘‘دُعا مانگتے ہوئے کندھوں سے چادر گر پڑی۔

سیّدنا ابوبکرؓ نے چادر اُٹھا کر فرمایا ’’اے اللہ کے رسولﷺ!بس فرمایئے۔ اللہ، آپﷺ کی دُعا ضرور قبول فرمائے گا۔‘‘ رحمتِ الہٰی جوش میں آئی، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا :جائو، میرے نبیﷺ کو میرا پیغام پہنچا دو کہ ’’ مَیں تمہارے ساتھ ہوں، تم مسلمانوں کے دل ثابت رکھو، مَیں کافروں کے دِلوں میں دہشت ڈال دوں گا۔ سو، گردنوں پر مارو اور ان کے پور پور پر مارو‘‘( سورۃ الانفال 12)۔’’ (اے نبیؐ)مَیں تمہاری مدد کے لیے پے در پے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں‘‘( سورۃ الانفال )
پھر کیفیت یہ تھی کہ مدینہ کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم لے کر آنے والوں کے ستر سورموں کے لاشے میدان بدر میں پڑے تھے، ستر قیدیوں کی صورت میں بندھے ہوئے رحم کی نظروں کی امید میں دیدے گھما رہے تھے اور باقی میدان سے بھاگ چکے تھے اور بےسروسامانی کی کیفیت میں اللہ کی خاطر لڑنے والا 313 کا گروہ غالب آچکا تھا "كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ” چودہ شہدائے حق میدان بدر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اسلام کو فتح سے ہمکنار کروا چکے تھے.
بے شک اس میں اسباق ہیں مدینہ ثانی والوں کے لیے……!!!
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
محمد عبداللہ

Muhammad Abdullah

Read Previous

وبا کی خطرناک صورتحال، بھارت کے لیے دعا یا بدعائیں

Read Next

یہ جدید نشے ملکی مفاد اور معاشرے کے لیے خطرناک تر ہیں

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے