• جنوری 22, 2021

دو ہزار بیس کا جائزہ

"دو ہزار بیس کا جائزہ”
سب سے پہلے تو اس غلطی فہمی کو درست کرلیں کہ سال، مہینے، دن یا زمانہ برا یا بدقسمت نہیں ہوتا یہ ہمارے اعمال ہی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے حالات ایسے بن جاتے کہ ہم دنوں اور زمانے کو دوش دے رہے ہوتے ہیں. ایسے ہی سال دو ہزار بیس پر بےشمار میمز بنیں اور اس کو ایسے الوداع کیا جا رہا ہے جیسے دو ہزار اکیس کے آتے ہی سارا کچھ ٹھیک ہوجائے گا. حالانکہ کورونا دو ہزار انیس میں شروع ہوا تھا جس کی وجہ دو ہزار بیس کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے.
اگر دو ہزار بیس کی بات اپنے حوالے سے کی جائے تو سال دو ہزار بیس میرے لیے پچھلے سالوں کی نسبت بڑا ہی منفرد سال ثابت ہوا ہے. کام کاج، جاب، گھر، ٹورز سے لے کر ایکٹوزم تک ہر کام میں واضح فرق پڑا. نئے نئے تجربات اور ان کے نئے نئے نتائج سے بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا. بہت سارے نئے احباب قریب تر ہوئے. کئی پرانے دوستوں کی شادیاں ہوئیں اور کئی کنوارے اس سال بھی کنوارے رہے.
دو ہزار بیس کا آغاز لگی بندھی روٹین سے ہی ہوا تھا. صبح باغی ٹی وی آفس جانا اور شام کو گھر واپس آجانا. لیکن کورونا کی وجہ سے لگنے والے لاک ڈاؤن نے ساری دنیا کی روٹین بدل دی جس کا فرق ہمارے اوپر بھی پڑا. سماجی روابط اور ملاقاتیں کم ہوگئیں، آفس جانا بند ہوگیا اور "ورکنگ فرام ہوم” شروع ہوگیا. پلان ترتیب دیئے گئے، اسٹڈی ٹیبل کو سیٹ کیا گیا. کتابوں اور لیپ ٹاپ کو اسٹڈی ٹیبل پر ترتیب سے رکھا گیا. (لیکن یہ علیحدہ بات کہ لیپ ٹاپ زیادہ استعمال ہوا اور کتابیں کم).
اسی دوران فیسبک پر کچھ دوستوں کے ہمراہ مختلف موضوعات پر لائیو سیشنز کا سلسلہ شروع کیا گیا جو کچھ عرصہ گزرنے کے بعد تعطل کا شکار ہوگیا. اسی طرح یوٹیوب چینل شروع کیا گیا جس پر کچھ ویڈیوز ڈالنے کے بعد یکسانیت، بوریت اور کچھ دیگر مصروفیات کی وجہ سے وہ سلسلہ کچھ عرصہ کے بعد رک گیا.
اپریل میں کچھ احباب کے ساتھ مل کر کچھ سیکھنے کا پلان کیا تو وہ کسی حد تک کامیاب رہا اور ویب ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کو سیکھا گیا اور ویب ڈویلپمنٹ میں کسی حد تک ہاتھ سیدھا کیا گیا.کچھ کتابوں اور مخصوص موضوعات پر مطالعہ بھی رہا لیکن مطالعہ دو ہزار بیس میں زیادہ نہ ہوسکا.
مسلسل گھر رہنے کی وجہ سے فیملی اور بچوں کو بھرپور ٹائم دیا. بچوں کے ساتھ لاہور کے پارکس اور زو وغیرہ کو بار بار وزٹ کیا گیا. سماجی ملاقاتوں اور ٹورز کے تقریباً نہ ہونے کی وجہ سے دوست احباب سے روابط آن لائن ہی ہوسکے. آن لائن دوستیوں میں مزید اضافہ ہوا اور کئی نئے احباب سے ملاقاتوں کے عہد و پیمان بھی ہوئے.
ٹورز کی بات کی جائے تو ذاتی اور فیملی ٹورز سے ہٹ کر ناران کاغان کا ٹور ہی ہوسکا (وہ بھی ہنگامی ٹور تھا). اس کے ساتھ ساتھ کچھ دوستوں کی شادیوں وغیرہ پر بھی جانا رہا. ذاتی اور فیملی ٹورز اس سے ہٹ کر رہے. البتہ لاہور میں ہی ہونے کی وجہ سے مقامی دوستوں کے ساتھ خوب اکٹھ اور میل ملاقات رہی. بیرونی دوستوں کے ساتھ ہونے والے میٹ اپس میں ایک "پلنگ توڑ میٹ اپ” نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی.
موڈ سوئنگز کی وجہ سے کئی دفعہ جاب چھوڑنے کا ارادہ بنا جو سال کے تقریباً آخر میں مکمل بھی ہوگیا اور ہم نے باغی ٹی وی کی جاب جو تئیس مارچ دو ہزار انیس کو شروع کی تھی وہ دسمبر دو ہزار بیس کے آغاز پر ہی چھوڑ دی.
اگر بات سوشل میڈیا ایکٹوزم کی کی جائے تو میرا ایکٹویزم دو ہزار بیس میں تقریباً باقی سالوں کی نسبت سے سست روی کا شکار ہی رہا. بلاگنگ یا کالم نگاری جو دو ہزار انیس اور اس سے قبل خاصی تیز تر تھی وہ کافی کم ہوگئی. اس کی وجوہات میں گھر میں قیام، موڈ سوئنگز، جاب، ڈیجیٹل مارکیٹنگ کورس اور دیگر مصروفیات رہیں. البتہ دسمبر میں باغی ٹی وی کی جاب چھوڑنے کے بعد اس سلسلہ میں بہتری نظر آئی ہے.
قصہ مختصر دو ہزار بیس مجموعی طور پر سیکھنے سکھانے کے حوالے بہترین رہا. ان شاءاللہ اس سال میں ہونے والے تجربات کی بنیاد پر دو ہزار اکیس کی پلاننگ کی جائے گی.
محمد عبداللہ

Muhammad Abdullah

Read Previous

کیا معاشرے میں امن لانے کے لیے ہم یہ کام کر سکتے ہیں

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے