• اپریل 12, 2021

کیا ہم عدم برداشت سے بچ سکتے ہیں؟

حسد، بھوک، جہالت، تعلیم سے دوری، گناہ، دین سے دوری، بےحیائی، اپنے آپ کو عقل کل سمجھنا، اپنی جماعت اپنے گروہ کو ہی ہمیشہ درست سمجھنا، فکر آخرت اور اللہ کا ذکر نہ ہونا، بے حسی، اخلاقی تربیت کا نہ ہونا، مہنگائی، خواہشات کا غلام ہونا، ڈپریشن، سوشل میڈیا، بیروزگاری وغیرہ یہ وہ وجوہات ہیں جو آپ احباب نے میری سابقہ پوسٹ پر کمنٹس میں بیان کی ہیں. اس کے علاوہ دیگر بھی کئی ہوسکتی ہیں.
میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے اور بالخصوص سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ مسائل اس عدم برداشت کی وجہ سے بنتے اور بڑھتے ہیں. کسی نے اگر کچھ بھی دیا، گالی دے دی، برا بھلا کہہ دیا، آپ کے بارے میں پوسٹ کردی، آپ کی جماعت، آپ کی پارٹی پر بات کردی، آپ کے نظریات کے مخالف کوئی نظریہ رکھ دیا تو فوری آپے سے باہر ہوکر اس کا "ٹھونک بجا” کر "کڑا جواب” دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے جواب دینے سے فریق مخالف دبک کر بیٹھ جائے گا تو یہ ہماری بھول ہوتی ہے کیونکہ فریق مخالف بھی ہمارا ہی بھائی بند ہے مطلب ہمارے ہی معاشرے کا فرد ہے تو یہ سلسلہ رکتا نہیں بلکہ دو طرفہ چل نکلتا ہے.
اسی اثناء میں کچھ تماش بین آتے ہیں جو طرفین میں جاری لڑائی میں پیٹرول بن کر کودتے ہیں اور دونوں طرف ہلہ شیری دیتے ہوئے آگ کو مزید بڑھکا کر سائڈ پر بیٹھ کر تماشا دیکھتے ہیں. حالانکہ قران مجید کا حکم ہے کہ جب مومنین کے دو گروہوں کو باہم متصادم دیکھو تو ان کے درمیان صلح کرواؤ.
میرا اس پلیٹ فارم کے توسط سے آپ احباب سے گزارش بلکہ سوال ہے کہ کیا ہم حق پر ہوتے ہوئے بھی اللہ کے لیے تواضع اختیار کرتے ہوئے پیچھے ہٹ سکتے ہیں؟ اور یہی مقصود ایمان ہے کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح ارشاد فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں. اسی طرح مومنین کی صفات میں سے یہ بھی ہیں کہ
ہو حلقہ یاراں تو ابریشم کی طرح نرم
ہو رزم حق و باطل تو فولاد ہے مومن

محمد عبداللہ

Muhammad Abdullah

Read Previous

سندھ سے سندھڑی (آم) چلا اور لاہور پہنچا

Read Next

کیا معاشرے میں امن لانے کے لیے ہم یہ کام کر سکتے ہیں

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے